Slideshow Image Script

 

Lahore

مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کا اجلاس؛ بلوچستان میں تبدیلی کا مقابلہ کرنےکاعزم پاک سعودی تعلقات، پاکستانیوں کےلیے ویزہ پالیسی آسان کرنے پر اتفاق پارلیمنٹ نمائندہ ادارہ ہےاسےگالی نہیں دی جاسکتی، آصف زرداری پروفیسر اقبال چوہدری 2017ءکےبہترین پاکستانی سائنس دان قرار سی پیک 110 ارب ڈالر کا ہوگیا، پاکستان کیلیےچند لاکھ امریکی ڈالر غیر اہم ہو گئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو سپریم کورٹ کا جج بنانےکی سفارش حسن علی آئی سی سی ایمرجنگ پلیئر بننے پر خوشی سے نہال چین نےآلودہ ہوا صاف کرنےوالا دنیا کا بلند ترین ٹاور بنالیا افغانستان، پاکستان پرعالمی دباوبڑھاناچاہتا ہے نکی ہیلی امریکی ایوان میں غیرقانونی تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاون کا بل منظور
اہم ترین
تازہ ترین بلاگ
 
مزید بلاگ تحریر کریں
Subscribe Your Email
Email:
Visit this group

 

 

ہیڈ لائن   

مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کا اجلاس؛ بلوچستان میں تبدیلی کا مقابلہ کرنےکاعزم

لاہور: مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں نے بلوچستان میں محلاتی سازشوں کے ذریعے تبدیلی کا مقابلہ کرنے کےعزم کا اظہار کیا ہے۔لاہور میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن)، پختونخواملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر، مریم نواز شریف، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، پرویزرشید، مریم اورنگزیب، میر حاصل بزنجو،محمود خان اچکزئی اور عبدالقادر بلوچ نے شرکت کی۔

اجلاس میں بلوچستان میں لائی گئی تحریک عدم اعتماد پر تفصیلی گفتگو کی گئی، شرکا کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ ہمارے علم میں لائے بغیر بلا جواز کیا گیا، اراکین نے کبھی اس حوالے سےکسی بھی سطح پر نشاندہی نہیں کی، چند سو ووٹ لینے والے شخص کو صوبے پر مسلط کرنا جمہوری عمل کی نفی ہے۔ حساس ترین صوبے پر کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بٹھا دینا سب کے لیے لمحہ فکریہ اور اقدام آئین میں دیے گئے عوام کے حقِ حکمرانی کی توہین کے مترادف ہے۔اجلاس میں شامل جماعتوں کی قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محلاتی سازشوں کے ذریعے تبدیلی کا مقابلہ کیا جائے گا اور عوامی شعور بیدار کرکے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جائے گی۔اجلاس میں سیاسیجماعتوں نے اتفاق کیا کہ ووٹ کے تقدس کو بار بارمجروح کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا، بلوچستان کے سیاسی استحکام کو راتوں رات محلاتی سازشوں کی نذر کر دیا گیا، غیر جمہوری اقدام کو بلوچستان کے عوام اپنی توہین تصور کرتے ہیں لہذا جمہوری قوتیں غیر

آئینی اقدام کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔

****

تازہ ترین کالم
مزید کالم
اداریہ
مزید اداریہ
FOLLOW US ON
ڈائون لوڈ کریں
JOB APPLICATION
POLICE CLEARANCE
CHARECTER CERTIFICATE
COMPANY PROFILE
میری اور میرےساتھیوں کی جان کو خطرہ ہی: چیئرمین پیمرا
اسلام آباد: (یو پی آئی) پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کےچیئرمین ابصار عالم نےپریس کانفرنس کرتےہوئےکہا ہےکہ کچھ لوگ پیمرا کےلوگوں کو دھمکیاں دےرہےہیں۔ میرےسمیت پیمرا ملازمین اور ان کےخاندانوں کی جان کو خطرہ ہی۔ میری وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سپریم کورٹ سےدرخواست ہےکہ وہ معاملےکا فوری طور پر نوٹس لیتےہوئےاس کی تحقیقات کریں۔ ابصار عالم کا کہنا تھا کہ ہم اپنےحقوق کےلیےکھڑےہیں، جان کی پرواہ نہیں ہی۔ ذمہ داروں کےخلاف کارروائی کرتےہوئےہمیں تحفظ دیا جائی، ورنہ ہمارےلیےکام کرنا ناممکن ہو گا۔چیئرمین پیمرا نےکہا کہ میں نےاپنےاوپر ہونےوالی تنقید کا کبھی جواب نہیں دیا۔ میرےخلاف الزامات کو ناموس رسالت سےجوڑا گیا۔ مجھےآج اسلام اور ناموس رسالت کا بتایا جاتا ہی۔ میں نےخود دو بھائیوں کو قبر میں اتارا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھےکہا گیا کہ میں بہت زیادہ تنخواہ لیتا ہوں اور این جی او کیلئےکام کرتا ہوں، حالانکہ وہ این جی او سیکورٹی کلیئرنس کےبعد کام کر رہی ہی۔ میں پچھلےسال 82 لاکھ روپےانکم ٹیکس ادا کیا ہی۔ انہوں نےکہا کہ میں نےاپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔ ہم ایک ادارےکو بنانےاور آگےلےجانےکی کوشش کر رہےہیں۔ ہمارےلیےکام کرنا مشکل ہو گیا ہی۔ کچھ اینکرز نفرت انگیزی پر مبنی مواد نشر کر رہےہیں۔ اگر فحاشی اور شر انگیزی کےخلاف کارروائی لیتےہیں تو سٹےآرڈر ہو جاتا ہی۔ سٹےآرڈرز کی وجہ سےپیمرا کام نہیں کر سکےگا۔پریس کانفرنس کےدوران چیئرمین پیمرا نےدھمکی ا?میز کال بھی میڈیا کو سنائی اور کہا کہ اس معاملےکو ہم سپریم کورٹ لےجا رہےہیں۔ ہم آئین و قانون کےمطابق فیصلہ جاری کرتےہیں۔ اگر کوئی چینل فیصلہ قبول نہیں کرنا چاہتا تو عدالتوں میں جائی۔
پاک سعودی تعلقات، پاکستانیوں کے لیے ویزہ پالیسی آسان کرنے پر اتفاق

>سلام آباد/ریاض: سعودی حکومت نے پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے کاروباری ویزے کے اجراءکو آسان بنانے اور ویزہ فیس کم کرنے پر نظر ثانی کا فیصلہ کرلیا۔العربیہ کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن کا 11واں اجلاس منعقد ہوا جس میں دو طرفہ اقتصادی تعلقات اور تجارتی تعاون سمیت کاروباری ویزے کے اجراءکو آسان بنانے سے متعلق بات چیت ہوئی۔اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے کاروباری ویزے کے اجراء کے طریقہ کار کو سادہ اور آسان بنانے اور ویزہ فیس میں کمی پر بھی بات چیت کی جبکہ دونوں ممالک نے تجارتی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور بزنس کونسل کو متحرک کرنے پر اتفاق کیا۔دونوں ممالک نے باہمی تجارتی راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی بھی تجویز پیش کی جبکہ پاک سعودی اقتصادی معاہدے پر علمدرآمد کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔واضح رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان میں دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے جذبہ خیر سگالی کے تحت مختلف اقدامات بھی کرتے رہے ہیں۔خیال رہے کہ سعودی حکومت وڑن 2030 پر عمل پیرا ہے جس کے تحت ولی عہد نے گزشتہ برس خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دینے کے ساتھ طالبات کو یونیورسٹیوں میں موبائل فون استعمال کرنے کی بھی اجازت دی۔سعودی حکومت کے روشن خیال ایجنڈے کو دیکھتے ہوئے معروف کمپنیاں مملکت میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش مند ہیں، اس ضمن میں موبائل فون بنانے والی دو بڑی کمپنیاں ایپل اور آئی فون نے حکومت سے باقاعدہ اجازت طلب کرلی ہے۔

****

پارلیمنٹ نمائندہ ادارہ ہےاسےگالی نہیں دی جاسکتی، آصف زرداری
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کےشریک چیئرمین آصف زرداری نےکہا ہےکہ پارلیمنٹ نمائندہ ادارہ ہےاسےگالی نہیں دی جاسکتی پارلیمنٹ کو گالی دینےکی نہیں بلکہ اسےمضبوط بنانےکی ضرورت ہی۔ عمران خان کی جانب سےپارلیمنٹ پر لعنت دینےکےبیان کو مسترد کرتےہوئےآصف زرداری نےاپنےبیان میں کہا ہےکہ پارلیمنٹ میں ہونےوالی قانون سازی کی بنیاد پر اسےملعون نہیں کہا جاسکتا جس قانون سازی کی بنیاد پر پارلیمنٹ کو برا کہا جارہا ہےاس میں تمام جماعتیں شامل ہیں صرف ن لیگ نہیں۔سابق صدر نےکہا کہ نواز شریف کو پارٹی سربراہ بنانےکا بل جب پیش کیا گیا تو پیپلزپارٹی نےسینیٹ میں اس قانون سازی کا راستہ روکا تاہم حکومت نےقومی اسمبلی میں اکثریت کی بنیاد پر بل پاس کروایا، پارلیمنٹ کو گالی دینےکی نہیں بلکہ اسےمضبوط بنانےکی ضرورت ہےپارلیمنٹ کو اس قدر موثر بنایا جائےکہ متنازع قوانین نہ بن سکیں قانون میں کمزوری ہو تو اسےدور کرکےبہتر بنایا جاسکتا ہی۔آصف زرداری نےمزید کہا کہ پارلیمنٹ کےاندر ایجنڈا حکومت لےکر آتی ہےپارلیمنٹ ایجنڈا خود مقرر نہیں کرتی حکومتی پالیسیوں پر اعتراض کیا جاسکتا ہےلیکن پارلیمنٹ کو برا نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ پارلیمنٹ کےاندر اقدامات حکومت کےہوتےہیں پارلیمنٹ کےنہیں۔

****

پروفیسر اقبال چوہدری 2017ءکے بہترین پاکستانی سائنس دان قرار
پروفیسر اقبال چوہدری 2017ءکے بہترین پاکستانی سائنس دان قرار

کراچی: پاکستانی کے ممتاز کیمیا دان ڈاکٹر پروفیسر اقبال چوہدری کو سال 2017ءکے لیے ملک کا سب سے زیادہ ثمرآور اور علمی کام کرنے والے ماہر کا اعزاز دیا گیا ہے۔پاکستان کونسل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پی سی ایس ٹی) نے اپنی موسٹ پروڈکٹو سائنٹسٹ آف پاکستان ڈائریکٹری میں جامعہ کراچی میں واقع انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بایولوجیکل سائنس ( آئی سی سی بی ایس) کے سربراہ ڈاکٹر اقبال چوہدری کو سال 2017ءکے لیے یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی وہ کئی مرتبہ یہ اعزاز اپنے نام کرچکے ہیں۔ڈاکٹر اقبال چوہدری کا انتخاب پاکستان کے 4154 ایسے سائنس دانوں میں سے کیا گیا ہے جنہوں نے گزشتہ برس بہترین علمی و تحقیقی کام بڑی تعداد میں شائع کرایا یا پیش کیا تھا۔ پی سی ایس ٹی کی ایک جیوری مسلسل اس عمل پر نظر رکھتی ہے اور گزشتہ 20 برس میں 8 کی تعداد میں ایسی ڈائریکٹری شائع کرچکی ہے جبکہ 2017ءمیں اس سلسلے کی نویں ڈائریکٹری منظرِ عام پر آئی ہے۔اس عمل میں سرکاری یا نجی اداروں، جامعات، کالجوں، تحقیقی اداروں میں کام کرنے والے محققین کے سائنسی کام کا جائزہ لیا جاتا ہے، نویں ڈائریکٹری میں ان افراد کے نام شامل ہیں جنہوں نے سال بھر سائنسی خدمات انجام دی ہیں، کسی بھی سائنس داں کا انتخاب کرتے وقت اس کی تحقیق کے معیار، اس کی مقدار اور اس کا اثر دیکھا جاتا ہے۔جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اجمل اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے سابق سربراہ اور آئی سی بی بی ایس کے پیٹرن ان چیف ڈاکٹر عطاالرحمان نے پروفیسر اقبال چوہدری کو مبارک باد دی ہے۔

****

سی پیک 110 ارب ڈالر کا ہوگیا، پاکستان کیلیے چند لاکھ امریکی ڈالر غیر اہم ہو گئے

واشنگٹن: سی پیک کا مالیاتی حجم 110 ارب ڈالر تک پہنچنے کے بعد امریکا کے چند لاکھ ڈالروں کی پاکستان کیلیےکوئی حیثیت نہیں رہی۔جنوبی ایشیائی امور کے ماہر اور امریکی مصنف روبرٹ ہیتھ وے نے انکشاف کیا ہے کہ سی پیک کا مالیاتی حجم 110 ارب ڈالر تک پہنچنے کے بعد امریکا کے چند لاکھ ڈالروں کی پاکستان کیلیے کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی تاہم امریکی دباو کے باوجود پاکستان کبھی اپنی سالمیت خطرے میں نہیں ڈالے گا چاہے امریکی امداد ہی داو پر کیوں نہ لگ جائے۔روبرٹ ہیتھ وے نے اپنی تصنیف میں انکشاف کیاہے کہ امریکی دباو کے باوجود پاکستان کبھی اپنی سالمیت خطرے میں نہیں ڈالے گا چاہے اس کے لیے امریکی امداد ہی داو پر کیوں نہ لگ جائے۔ پاک امریکا تعلقات پر مبنی کتاب دی لیوریج پیراڈوکس میں پاکستان اور امریکا میں50کی دہائی سے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات کا احاطہ کیا گیا ہے۔کتاب میں کہا گیاہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اس فائدے کو دیکھا جو امریکا کے حق میں رہا جب کہ مصنف نے ٹرمپ کی21اگست والی تقریر میں افغانستان کے لیے نئی امریکی حکمت عملی کا خصوصی تذکرہ کیا۔مذکورہ تقریر میں ٹرمپ نے کہا تھاکہ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دے رہے ہیں اور اسی دوران وہ دہشت گروں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کررہا ہے لیکن اب اس کو بدلنا ہوگا اور یہ بہت جلد ہوگا۔ بعدازاں امریکا کے نائب وزیراعظم مائیک پنس نے لکھاکہ امریکا نے پاکستان کو نوٹس پر رکھا ہوا ہے۔مصنف نے 2 وجوہ کی بنا پر ٹرمپ پالیسی کو خطرناک قرار دیا ہے، پہلا یہ کہ افغانستان میں جنگ ختم کرنے کے لیے کسی سنجیدہ مذاکرات کی کوشش نہیں کی جارہی جبکہ دوسری جانب پاکستان کے لیے ٹرمپ کی خاموشی سے پاکستان یہ نتیجہ اخذ کررہا ہے کہ افغانستان کے معاملے میں غیرجانبداری اختیار کرلی جائے۔ پاکستان کے لیے مزید پریشان کن صورتحال یہ رہی کہ ٹرمپ نے افغانستان میں اقتصادی اور ترقیاتی منصوبوں میں بھارت کی عمل داری کی بھرپور حمایت کی۔مصنف نے بتایاکہ ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد اسلام آباد نے واضح کردیا کہ امریکا افغانستان میں اپنی ناکامی پر پاکستان کو قربانی کا بکرا نہ بنائے۔ مصنف نے اپنی کتاب میں امریکا کو تجویز دی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز نہ کرے۔ مصنف نے تجویز پیش کی کہ امریکا کو اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا اور ممالک کی داخلی ترقی پر توجہ کو مرکوز رکھنا چاہیے۔ انھوں نے ٹرمپ کو تجویز دی کہ طاقتور کی حیثیت سے بات چیت کریں اور میز پر فوجی قوت نہ لائیں جبکہ مذاکرات سے دور ہونے سے مت ڈریں کیوںکہ دوسری پارٹی کو آپ سے زیادہ مذاکرات کی ضرورت ہے۔

****

>چین نے آلودہ ہوا صاف کرنے والا دنیا کا بلند ترین ٹاور بنالیا

بیجنگ: چین میں آلودہ ہوا صاف کرکے اسے صاف حالت میں لانے کےلیے ایک ٹاور بنایا گیا ہے جو نچلی فضا میں موجود ہوا کو بڑی حد تک صاف کردیتا ہے۔اسے ہوا صاف کرنے والا دنیا کا بلند ترین ایئر پیوریفائر ٹاور کہا جارہا ہے جس کی اونچائی 100 میٹر ہے اور اسے چین کے مصروف شہروں میں بڑھتی ہوئی آلودگی اور اسموگ ختم کرنے کےلیے تیار کیا گیا ہے۔چین میں گاڑیوں اور صنعتوں کی بہتات سے وہاں کے مصروف ترین شہروں میں اسموگ کا مسئلہ گمبھیر ہوچکا ہے جسے درست کرنے کےلیے مختلف طریقوں پر غور کیا جارہا ہے۔ پہلے مرحلے میں صوبہ شانڑی کے شہر ڑیان میں اسے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کی تیاری اور آزمائش کا کام چینی اکادمی برائے سائنس کے تحت ارضی ماحولیاتی انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے کیا ہے۔ادارے کے سربراہ ساو جنجی نے کہا ہے کہ اپنی تنصیب کے بعد ٹاور ایک روز میں ایک کروڑ مکعب میٹر سے زیادہ صاف ہوا خارج کرتا ہے جس کا اثر اس کے ارد گرد 10 مربع کلومیٹر کے علاقے میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح یہ اسموگ کی شدت کم کرکے اسے درمیانے درجے تک لاتا ہے۔ٹاور کے قریب آلودہ ہوا کھینچنے والا ایک نظام نصب ہے جس کا رقبہ ایک فٹ بال گراونڈ کا نصف ہے، جس میں شیشے کے گھر (گلاس ہاوس) کے اندر آلودہ ہوا جاتی ہے جسے ٹاور کا نچلا حصہ اپنی جانب کھینچتا ہے۔ گلاس ہاوس، شمسی توانائی استعمال کرتے ہوئے ہوا کو گرم کرکے آگے بھیجتے ہیں۔ یہ گرم آلودہ ہوا ٹاور کے اندر سے گزرتی ہے۔ ٹاور کے اندر کئی پرتیں لگائی گئی ہیں جو ہوا کو درجہ بہ درجہ صاف کرتی ہیں اور یوں اس ٹاور کے اندر داخل ہونے والی ہوا بتدریج آگے بڑھتے ہوئے صاف ہوتی رہتی ہے؛ اور آلودگی سےمکمل طور پر پاک ہو کر خارج کردی جاتی ہے۔

****

آپریشنل نیٹ ورک

d
M ASLAM MIAN
CHIEF EDITOR

 

 


SHAHID RIZVI
News EDITOR

 

 


NAZIR KHALID
CHIEF REPORTER

 

 

 


JAMIL SIRAJ
SPORTS EDITOR

BUREAU CHIEF

SYDNEY AUSTRALIA



JAMAL JATOI
BUREAU CHIEF KARACHI

 

 


ABDUL WAHID
STAFF REPORTER

 

 

 

کیلنڈر
Copyright 2010 UPI(United Press International)